")
مکتب سے ھمارے عمل کا کوئی تعلق نہیں ھے
جنرل مشورہ

ھم خدا کا شکر ادا کرتے ھیں کہ اس نے ھمیں اس نعمت (انقلاب اسلامی) سے نوازا ھے البتہ ھم کو اس سے یہ دغدغہ اور نگرانی بھی ھے کہ کہیں سوءِ عمل کی وجہ سے ھم اس سنہرے موقع کو کھو نہ بیٹھیں ۔ اگر یہ انقلاب ضائع ھوجائے تو اس کے علاوہ کہ بہت سے مواقع ایک ملت و قوم سے کھو جانے کے ساتھ ساتھ، شیعہ علماء کی آبرو، اعتبار اور بھروسہ بھی مخدوش ھوجائے گا ۔ آج ھم آبرو ، احترام و اعتبار جیسی گرانقدر میراث سے بہرہ مند ھیں جن کو ھم نے صدیوں کی محنت، خونِ جگر اور تلخیوں سے فراھم کیا ھے لہذا ھماری خود خواھی یا کوتاھی یا بغیر سوچے سمجھے اور تدبیر کے بنا عمل کرنے سے ھم پر سنگین نقصانات عائد کرسکتے ھیں۔ البتہ ھمیں اس انقلاب کے دشمنوں اور بد خواھوں کی سنگ اندازی اور اعتراضات کو بھی نادیدہ نہیں کرنا چاھئے لیکن اگر ھم خود صحیح عمل کریں تو کوئی بیرونی عامل اور سبب ھمارے تعلق و رابطہ کو خدائے متعال اور مسلمانوں کے درمیان نہیں بگاڑ سکتے ھیں ۔ جو چیز نگرانی اور دغدغہ کا باعث ھے وہ ایسے امور ھیں جو پروردگار عالم کی عنایتوں کو ھماری طرف سے موڑ دیتے ھیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ھے : « ذلك بأنّ الله لم يك مغيّراً نعمة أنعمها على قوم حتّى يغيّروا ما بأنفسهم» (یہ اس لئے کہ خدا کسی قوم کو دی ھوئی نعمت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے تئیں تغیر نہ پیدا کر دیں) اگر اللہ کی عنایت ھم سے پلٹ جائے تو لوگ بھی ھم سے پھر جائیں گے ۔ ایسا نہیں ھے کہ میں اور جنابعالی کی ذات کی بات ھو ۔ ممکن ھے لوگ میری اور آپ کی رفتار، گفتار اور کرادار کی وجہ سے دین سے منحرف ھو جائیں ۔