")
دین اپنی ترقی کی سیڑھی نہیں ھونی چاھئے
جنرل مشورہ

اگر روحانیت اور علماء پر کوئی اعتماد اور بھروسہ ھے اور ان کی مقبولیت ھے تو یہ معلوم ھونا چاھئے کہ یہ اعتبار و بھروسہ ان کا ذاتی اور اصیل نہیں ھے، یہ اعتبار خود ھمارا نہیں ھے یہ بھروسہ کسی اور جگہ سے حاصل ھوا ھے، یہ اعتبار و بھروسہ دین سے مِلا ھے، یہ اعتماد پیغمبرِ خدا (ص) اور اهل بیت (ع) کے ذریعہ حاصل ھوا ھے ۔ اگر لوگ علماء اور روحانیت سے چاھت، محبت اور ارادت رکھتے ھیں تو یہ اس وجہ سے کہ ھم سب کو مکتبِ امام صادق (ع) کے شاگردوں میں شمار کرتے ھیں ۔ اسی بناپر ھمیں چاھئے کہ اس انتساب کے لوازم کے ملتزم اور پابند رھیں اور اس کی رعایت کریں ۔ اهلبیتِ عصمت و طہارت (ع) سے انتساب کا لازمہ یہ ھے کہ اپنے آپ کو ( گناھوں کی آلودگیوں سے ) پاک و پاکیزہ بنائیں، خود خواھی اور خود محوری کو کنارے اور بالائے طاق رکھ دیں اور ان چیزوں سے الگ رھیں ۔ اگر ھمارے کردار و رفتار اور اعمال محمد و آل محمد (ص) کے تقوی کے ضوابط اور ان کی مرضی و خوشنودی کے موارد کے اصول کے خلاف انجام پائیں تو یہ چیزیں سبب بنیں گی کہ لوگوں کے عقائد اور ان کے اخلاق پر غلط اور برے اثرات ڈالیں اور یہ معلوم ھونا چاھئے کہ اس کہ مسئولیت و ذمہ داری بہت ھی سنگین ھے، لوگوں کی یہ توقع نہیں ھے کہ وہ ھم سے اور آپ سے تقوی اور اسلامی اخلاق سے ھٹ کر ھمارے اعمال و کردار کو دیکھیں اور ان کا حق بھی ھے ۔ وہ یہ توقع و امید نہیں رکھتے کہ ھمیں خود اپنی ذات کا مبلغ دیکھیں، اور اسلام کو ذریعہ بنائیں تاکہ اپنے امور کو آگے بڑھائیں، اھلبیت (ع) نے بھی دین کے ذریعہ کھانے والوں کی مذمت کی ھے، دین کو وسیلہ و ذریعہ بنانا یعنی انسان، دین اور لوگوں کی دین سے ارادت، چاھت اور لوگوں کے عقائد کو اپنی ترقی کی سیڑھی قرار دے ۔