بیانات
ایک زمانے میں شهر مدینه کے اندر قحط پڑا اور غلاّت و اجناس کی کمی هوگئی. دکانیں خالی هوگئیں اور قیمتی بڑھ گئیں تهیں، انهیں حالات میں امام (ع) نے اپنے خادم بنام (معتب) سے سوال کیا : « اس وقت بازار کی کیا حالت هے ؟» معتب نے جواب دیا: «اے فرزند رسول خدا (ص) ! بازار کی حالت تو اچهی نهیں هے. لوگ بڑی سختی و مشکلات میں زندگی بسر کر رهے هیں » حضرت نے پوچها: « لوگوں کی حالت و ...
مزید پڑھیں
امام صادق عليہ السلام سے اسلامی سماج کے بارے میں معاملات کی انجام دهی کے متعلق بے شمار روایات نقل هوئی هیں . مثال کے طور پر آپ فرماتے هیں که مسلمان انسان کو چاهئے : ایک مناسب و معقول اندازه کے مطابق نفع حاصل کرے، نه که اس سے زیاده . آپ کے کلام کا مطلب یه هے که جو نفع تم لے رهے هو وه کم رهے بهت زیاده نفع نه لو اور ان کے همدردی سے پیش آؤ . [1]    یه هے امام صادق عليہ السلام کا نظریه، جب ...
مزید پڑھیں
تم پر لازم هے که مسلمانوں کو اپنے سامنے، اپنے اقرباء کی طرح قرار دو ! پس ان میں سے جو بهی بوڑها اور کهنسال هو جائے اس کو اپنے والد کی طرح اور چهوٹوں کو فرزند (اپنے بچوں کی طرح)، اور اپنے هم سن و سال کو اپنے بهائیوں کی طرح جانو ! . پس اس وقت تم ان میں سے کس پر ظلم وستم کرنا پسند کرو گے ؟ اور ان میں سے کس کی آبرو ریزی  و عزت سے کهیلنا پسند کرو گے ؟ … اور اس بات کو جان لو که ان کے نردیک ...
مزید پڑھیں
حضرت على عليہ ‏السلام نے صداقت اور سچائی کو ایک انسانی اور الهی اقدار کے عنوان سے اپنی طبیعت و ضمیر کے اندر راسخ کر رکها تها. یه چیز فقط آپ کی شخصی اور گهریلو زندگی میں هی نهیں تهی بلکه اجتماعی اور سیاسی میدان میں بهی حضرت (ع) کی توجه کا مرکز رهی هیں. اس چیز کو ملحوظ خاطر رکهتے هوئے کهنا چاهئے که آپ انسانیت کے لئے ایک نمونه هیں جنهوں نے سیاست و صداقت اور سچائی کو بنحو احسن ایک جگه جمع کردیا هے ...
مزید پڑھیں
حضرت على عليہ ‏السلام تمام تر دباؤ، مشکلوں اور سختیوں کے مقابلے میں اپنے کو خم نهیں کرتے تھے یهاں تک که بهت سے دباؤ اور سختیاں حکومت کے عاملوں و کارگزاروں کی طرف سے آپ پر وارد هوتی تھیں مگر آپ ان کے مقابل میں تنها مقاومت کرتے تهے. آپ ایک مستحکم اراده اور قوت مقاومت کے مالک تهے یهاں تک که اگر پوری دنیا کے لوگ اپنے هاتھ کو ایک دوسرے کے هاتھ میں دے دیں تو بهی ایک سوئی کی نوک کے برابر آپ کی مقاومت ...
مزید پڑھیں
حضرت على  عليه ‏السلام محروموں، ناداروں اور مستضعفوں کے بہت هی زیادہ حامی و طرفدار تھے اور اگر ان کی حکومت میں کوئی نادار، غریب ، مستضعف ، بھوکا اور پیاسا یا لا وارث و بے سرپرست زندکی گزارتا تھا تو آپ کو چین و سکون سے نیند نہیں آتی تھی لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو دشمنوں کے مقابلے میں بے باک اور نڈر رها کرتے تھے . آپ (ع) اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرماتے هیں: خدا کی قسم اگر میں میدان ...
مزید پڑھیں
على عليه‏ السلام جس طرح ایک آزاد طبیعت  کے انسان تھے اسی طرح آزادی کے دوستدار تھے اور نہایت درجہ حق کو دوست بھی رکھتے تھے  ، اپنے کام  گہری فکر کے مطابق عدل و انصاف کے مطابق  انجام دیتے تھے۔ ایک دن عقیل ، حضرت (ع) کے بڑے بھائی  آپ کے پاس آئے اور اپنی مالی حالت کی شکایت کرتے ہوئے کہا: جو حصہ  بیت  المال سے  ہمیں دیتے ہیں  وہ میرے لئے ...
مزید پڑھیں
ہمارا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے کردار،گفتار، عمل، فکر اور نیت میں سچے رہیں،  تاکہ تدریجی طور پر سچائی لوگوں کے درمیان اپنے  مقام کو پا جائے ، اور اس کے ذریعہ بعض گناہ جیسے ریاکاری درمیان سے ختم ہوجائے ، اس لئے کہ سچا اور صادق انسان ریاکار اور منافق نہیں ہوسکتا، کیونکہ ریا کاری اور منافقت کی بنیاد جھوٹ ہے ۔ در حقیقت منافقوں نے طول تاریخ میں جو نقصانات انسانیت پر ڈھائے ہیں ...
مزید پڑھیں
پیغمبر صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله نے فرمایا ہے: لا شَفاعَةَ وَ لا كَفالَةَ وَ لا يَمينَ فى حَدٍ.[1] کوئی شفاعت نہیں اور کوئی کفالت و ضمانت نہیں اور حدود الہٰی کے نافذ کرنے میں کوئی قَ م قابل قبول نہیں ہے۔ان میں سے کوئی بھی چیز حدود الہٰی کو نافذ کرنے میں مانع نہیں ہوسکتی ہے ۔ اسی طرح  حدود کے نافذ کرنے میں تاخیر اور  اس کی تعطیل کردینے  کا کوئی جواز ...
مزید پڑھیں
پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد جس طرح حضرت (ص) نے خبر دی تھی  ، اسلامی سماج پستی میں گِر پڑا   ۔  شرائط اس طرح کے ہوگئے تھے کہ  اميرالمؤمنين (ع) خانہ نشین ہوگئے ، اور جبکہ آپ اپنے گھر کے اندر تھے ان پر حملہ کردیاگیا ۔ پیغمبر صلى‏ الله‏ عليه‏ و‏آله کی بیٹی نے  ان کا دفاع کیا، اور اس دفاع  کرنے میں زخمی ہوگئیں ۔ جو زخم حضرت  زهراء ...
مزید پڑھیں