")
حضرت آیت الله العظمی سید عبدالکریم موسوی اردبیلی (قدس سره) کی رحلت کی برسی کے موقع پر یادگار کانفرنس
11/23/2017

 دنیائے شیعیت کے عالیقدر مرجع حضرت آیت الله العظمی موسوی اردبیلی (قدس سره)، تمام مدارس مفید اور یونیورسٹی مفید کے بانی و موسس کی رحلت کی پہلی برسی کا پروگرام؛ اسٹوڈنس، اساتید، حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کی شخصیتوں کی موجودگی میں پنجشنبہ کے روز قم المقدسہ کی مفید یونیورسٹی میں منعقد ھوا ۔

اس پروگرام میں محمد رضا بہشتی، آیت الله سید علی محقق داماد، حجت الاسلام و المسلمین شہرستانی نمائنده تام الاختیار آیت الله العظمی سیستانی، فرشاد مومنی، حجت الاسلام و المسلمین سید محمد سعیدی، حضرت معصومہ (س) کے آستانہ مقدسہ کے متولی اور حوزہ کے مختلف سطح کے اساتید محترم نے شرکت فرمائی ۔

اس پروگرام میں آیت الله محقق داماد، حجت الاسلام و المسلمین رهائی، حجت الاسلام و المسلمین ایازی، حجت الاسلام و المسلمین ادیب، حجت الاسلام و المسلمین سید علی موسوی اردبیلی اور فرشاد مومنی نے اپنی تقاریر و بیانات سے حاضرین کے قلوب کو منور کیا ۔

یونیورسٹی مفید کی مجلس انتظامیہ کے صدر، جناب آیت الله سید علی محقق داماد نے قم المقدسہ کی علمی نشست میں مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کی برسی کے موقع پر انہوں نے اس بیان کے ضمن کہ اس بزرگ فقیہ کی رحلت، عام لوگوں اور حوزہ علمیہ کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا، اظہار فرمایا: قم المقدسہ یا دوسرے شہروں میں ان کی مجلس برسی کے پروگرام کا انعقاد اور  یونیورسٹی مفید میں خصوصی مجلس برسی کا منعقد ھونا، ان کی زندگی کے پُربار ثمرات میں سے ھے نیز یہ ایک بجا اور پسندیدہ امر ھے ۔   

انہوں روایات کے مطابق، بیان کیا کہ پیغمبر {ص} کی رحلت اور علماء و دانشمندوں کا انتقال ایک ایسا ضائعہ ھے جس کی کمی کا اثر زمین پر بھی ھوتا ھے، نہ کہ صرف اسلام پر اس کا اثر ھوتا ھے ۔ مزید فرمایا: زمین کی سنگینی علم سے ھے اور اس سلسلہ میں جو بھی کمی واقع ھوتی ھے وہ زمین پر موثر ھوتی ھے، جس کی بناپر حق پہنچتا ھے کہ ھم عزادار ھوں، یادگار منائیں، مجلس منعقد کریں، تذکرہ کریں اور انہیں ذارئع سے ترقی کے راستے کو حاصل کریں ۔

یونیورسٹی مفید کی مجلس علمی کے رکن حجت الاسلام و المسلمین ڈاکٹر رهائی نے مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کی مجلس برسی کے پروگرام میں کہا: ان کا عقیدہ تھا کہ فقہ و اصول کے ذریعہ لوگوں ضرورت کو برطرف ھونا چاھئے ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی ایک متواضع معلم، متقی و پرہیزگار اور شاگرد پرور انسان تھے، کہا: انہوں سعی و کوشش کی کہ اپنے اساتید کے حضور میں جو علم اخلاق سیکھا تھا اسے اپنے اندر باقی رکھیں ۔

یونیورسٹی مفید کی مجلس علمی کے رکن نے مزید کہا: اس مرد بزرگ کے اخلاقی امتیازات میں آزادی تھی جس کے وہ پابند تھے اور بہت آسانی سے ان کے سامنے دوسروں کے نظریات کو بیان کیا جاسکتا تھا اور واضح طور پر مدّ مقابل کے نظریہ کو قبول کرتے تھے ۔

جناب ڈاکٹر فرشاد مومنی نے مرحوم آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کی یادگار میں یونیورسٹی مفید کے اندر منعقد علمی نشست میں کہا: موصوف [قدس سرہ] کے اندر عدلیہ میں کوئی کمی نہیں تھی، بلکہ درخشاں ترین ایام، موصوف [قدس سرہ] کے وھی ھیں،اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ھے کہ فقط ایک نظریاتی نکتہ ھو، اس بات کے تجربی شواھد موجود ھیں ۔  

انہوں نے اظہار کیا: یہ فرزانہ فقیہ ایک عظیم انسان تھے جن کے ھمارے سماج و معاشرہ پر بہت بڑے حقوق ھیں ۔

انہوں نے کہا: تقریبا ھم سبھی لوگ کم و بیش جانتے ھیں کہ حقیقی دنیا میں اقتصاد ایک انتزاعی چیز کہ جو معاشرہ و اجتماع سے الگ ھو اور صرف ثقافتی و سیاسی ھو، نہیں پائی جاتی ھے ۔ اسی بناپر مرحوم آقائے موسوی اردبیلی کے افکار کو ان کے زاویہ فکر کی شناخت کے بغیر فطری طور پر سمجھنا ممکن نہیں ھے ۔

اس پروگرام میں گولڈبل، آیت الله العظمی موسوی اردبیلی کی افکار کے سلسلہ میں منعقد ھوئی اور اس مرجع تقلید کے متعلق تمام ارسال شدہ مقالات نیز مرحوم کے فقہی دورہ کی رونمائی و رسم اجراء بھی اس یادگار کے پروگرام میں شامل تھے ۔